Rohaaniyat

0323-4191004

info@rohaaniyat.com

یتیموں کو خیرات دینا بہت ثواب کا کام ہے۔

سیدنا ابوسعیدخدری ٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میں اپنے بعد جن باتوں کا خوف تمہارے لیے کرتا ہوں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ تم پر دنیا کی تازگی اور اس کی آرائش کھول دی جائے گی۔” تو ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! (مال کی زیادتی سے کیا خرابی ہو گی؟ مال تو اتنی اچھی چیز ہے) کیا اچھی چیز بھی برائی پیدا کرے گی؟ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو اس سے کہا گیا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے کلام نہیں فرماتے۔ پھر ہم کو یہ خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ہے چنانچہ جب وحی اتر چکی تو) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھا اور فرمایا: “ سائل کہاں ہے؟” گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے سوال) کو پسند فرمایا: “ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں یہ صحیح ہے کہ) اچھی چیز پر برائی نہیں پیدا کرتی مگر (بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے) دیکھو فصل ربیع کے ساتھ ایسی گھاس بھی پیدا ہوتی ہے جو (اپنے چرنے والے جانور کو) کو مار ڈالتی ہے یا بیمار کر دیتی ہے۔ مگر اس سبزی کو چرنے والوں میں سے جو چر لے یہاں تک کہ جب اس کے دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ آفتاب کے سامنے ہو جائے پھر لید کرے اور پیشاب کرے اور (اس کے بعد پھر) چرے (ایک دم بے انتہا نہ چرتا چلا جائے تو وہ نہیں مرتا) اور بیشک یہ مال ایک خوشگوار سبزہ زار ہے پس کیا اچھا مال ہے مسلمان کا کہ وہ اس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دے۔ یا اسی قسم کی کوئی اور بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: “ اور بیشک جو شخص اس مال کو ناحق لے گا وہ اس شخص کے مثل ہو گا جو کھائے اور سیر نہ ہو اور وہ مال اس پر قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔”

صحیح بخاری